فلسطینی باہمت لڑکی احد تمیمی کو معاہدے کے بعد 8 ماہ کی سزا

Ahed Tamimi, Palestinian teenager who slapped Israeli soldier, jailed for 8 months
Ahed Tamimi, Palestinian teenager who slapped Israeli soldier, jailed for 8 months

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے سمیت دیگر مقدمات میں حراست میں لی گئی 17 سالہ فلسطینی احد تمیمی کو ایک معاہدے کے بعد 8 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

احد تمیمی کی وکیل گیبسی لیسکی کا کہنا ہے کہ 17 سالہ احد نے 12 میں سے 4 الزامات قبول کیے ہیں جن میں اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنا بھی شامل ہے۔

وکیل کے مطابق احد تمیمی نے اشتعال انگیزی کے ایک، ایک اور فوجیوں کے کام میں مداخلت کے دو الزامات قبول کیے جب کہ انہیں آئندہ موسم گرما میں رہا کر دیا جائے گا اور سزا کی مدت میں وہ وقت بھی شامل ہوگا جو انہوں نے اب تک زیر حراست گزارا۔

استغاثہ کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے احد تمیمی کی وکیل کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم  ہے کہ اگر کیس کی بند کمرہ سماعت ہوگی تو اس میں قانون کے تقاضے پورے نہیں کیے جائیں گے اور یہ منصفانہ نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ احد تمیمی کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا جس پر ان کی وکیل نے اوپن ٹرائل کی درخواست کی تھی تاہم جج نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ کم سن احد تمیمی کے مفاد میں ہے کہ مقدمے کی سماعت ان کیمرہ کی جائے۔

احد تمیمی

احد تمیمی پہلی مرتبہ 11 سال کی عمر میں اس وقت منظر عام پر آئیں جب ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا وائرل ہوئی جس میں انہیں ایک اسرائیلی فوجی کو مکے سے ڈراتے ہوئے دیکھا گیا۔

دو سال قبل احد تمیمی کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں انہیں ایک اسرائیلی فوجی کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹتے دیکھا گیا۔

دسمبر 2017 کو اسرائیلی فوج کی جانب سے کارروائی کے دوران احد تمیمی نے ایک فوجی کے منہ پر طمانچہ مارا جس کی ویڈیو ان کی والدہ نے بنائی تھی۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے 19 دسمبر کو احد تمیمی کو حراست میں لیتے ہوئے فوجی عدالت میں مقدمہ چلانا شروع کردیا تھا۔

احد تمیمی کے مقدمے کو دنیا بھر کے میڈیا میں بھرپور کوریج بھی دی گئی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here