ملکی بالائی علاقوں میں شدید برفباری کے بعد نظام زندگی مفلوج، سیاح پھنس گئے

After heavy snowfall paralyzed life in most parts of the country, tourists got stuck
After heavy snowfall paralyzed life in most parts of the country, tourists got stuck

:اسلام آباد

مالاکنڈ، ہزارہ ڈویژن اور کشمیر کے پہاڑوں پر دوسرے روز بھی شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے جب کہ مختلف واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری نے نظام زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے، لوئر دیر، دیر بالا، صوابی کے بالائی علاقوں مہابن اور بیرگلی میں دوسرے روز بھی مسلسل برف گر رہی ہے۔

ایبٹ آباد کے بالائی علاقوں نتھیا گلی اور گلیات میں دوسرے روز بھی برفباری کا سلسلہ جاری ہے، مسلسل برفباری کی وجہ سے ایبٹ آباد سے نتھیا گلی جانے والی سڑک کالا باغ کے مقام پر اور نتھیا گلی سے مری جانے والی سڑک بند ہے۔

سڑکوں کی بندش کے باعث ایوبیہ، نتھیا گلی اور ڈونگا گلی میں سیاح پھنسے ہوئے ہیں جہاں اب تک 3 فٹ تک برف پڑچکی ہے۔

اپر ہزارہ ڈویژن میں بارش اور برفباری جاری ہے، شاہراہ کاغان راجوال کے قریب ٹریفک کے لئے بند ہے، نواز آباد روڈ بھی کئی مقامات پر بند ہے اور مسلسل گرتی برف نے بجلی اور ٹیلی فون کے نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

 اپر دیر میں لواری ٹنل کے قریب اب تک 5 فٹ تک برف پڑ چکی ہے جب کہ سوات کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے لوگ گھروں تک محصور ہو کر رہ گئے۔

آزاد کشمیر میں وادی لیپہ، وادی گریز، وادی سرگن، وادی جاگراں، وادی شونٹھر، شاردہ ،کیل، حویلی اور وادی نیلم کے بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔

برفباری کے باعث کریلا سے تُرکنڈی روڈ بند ہے جس کی وجہ سے درجنوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں اور کئی مقامات پر رابطہ سڑکوں کی بندش سے لوگ گھروں تک محصور ہیں۔

پی ڈی ایم اے (پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) کے مطابق مردان کے علاقے باغیچہ ڈھیری میں گھر کی چھت گرنے سے ایک سال کا بچہ جاں بحق ہوا جب کہ پشاور کے لال کرتی میں گھر کی چھت گرنے سے 2 کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

لوئر دیر کے نواحی گاوں ہاشم میں موسلادھار باش سے مکان کی چھت گرنے سے 2 خواتین جاں بحق اور بچی زخمی ہوگئی۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ برفباری کے باعث پہاڑی علاقوں میں بیشتر شاہراہیں بند ہیں تاہم تمام اضلاع کو حفاظتی اقدامات کے لئے ہدایات جاری کردی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here