کھارے پانی کو پینے کے قابل بنانے والا لکڑی سے بنا فلٹر

A filter made of saline water drinkable wood
A filter made of saline water drinkable wood

پوری دنیا میں صاف پانی حاصل کرنا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے ایسے میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سائنسدانوں کی جانب سے متعدد ایجادات جاری ہیں۔

حال ہی میں نیو جرسی میں واقع پر نسٹن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے سادہ لکڑی کی پرت کو بطور فلٹر استعمال کیا ہے یونیورسٹی کے ماہر جیسن رین کے مطابق نمک کھارے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے روایتی نظاموں میں توانائی، بڑا سسٹم اور خاص آلات کی ضرورت ہوتی ہے ۔

اب ماہرین نےاس کا حل ایک خاص طر ح کی لکڑی ’’امریکن بیس ووڈ ‘‘ کی شکل میں نکالا ہے ۔

اس لکڑی کو امریکی ترنج بھی کہا جا تا ہے ،جس کے مسام نمک کو روک لیتے ہیں اور پانی کو گزر نے دیتے ہیں ،اس طرح پانی کی کڑواہٹ ختم ہوجاتی ہے۔

اس لکڑی سے بنی جھلی سمندری پانی کو پینے کے قابل بنا دیتی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جھلی دار پانی کے فلٹر عام طور پر کسی پولیمر سے بنائے جاتے ہیں جن میں موجود باریک سوراخ پانی گزرنے دیتے ہیں اور نمکیات روک لیتے ہیں لیکن اس کے لیے بلند پریشر کا پمپ در کار ہوتا ہے۔

جوہر جگہ کارآمد نہیں ہوتا لیکن اس خاص لکڑی کی باریک چھال پر یہ کام کرسکتا ہے۔

جیسن رین اوران کے ساتھیوں نے لکڑی کا پتلا ٹکڑا کاٹا اور اسے ایک کیمیائی طر یقے سے گزارا، جس کے بعد اس کے سوراخ مزید کھل گئے اور پانی زیادہ پھسلنے لگا۔

چھال کا دوسرا حصہ گر م کیا گیا تا کہ دوسری جانب کا پانی بخارات بن کر اُڑ جائے۔

اس طر یقے سے باآسانی تازہ ٹھنڈا اور میٹھا پانی حاصل ہوتا ہے ۔سادہ نظا م کی بدولت پانی کو بخارات بنانے کے لیے زیادہ حرارت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

 ابتداء میں ایک مربع میٹر چوڑی لکڑی کی چادر سے فی گھنٹہ 20 لیٹر پانی فلٹر کیا جاسکتا ہے، اس فلٹر کی موٹائی ایک مائیکرو میٹر ہے اور اس کا باقی نظام بھی اسی کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here