کتیا کے گلے میں سفید ڈوپٹہ

Madr-i-Millat Fatima Jinnah
Madr-i-Millat Fatima Jinnah

کتیا کے گلے میں سفید ڈوپٹہ

کالم و تحریر: آغا وقار احمد

آج جب پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس ٹاک کی جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے آئینی فیصلے کیخلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور ان کے دائیں بائیں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے دو شرمناک کردار نظر آئے تو مجھے یقین ہو گیا کہ مسلم لیگ ن انتخابات سے راہِ فرار تلاش کر رہی ہے۔

الیکشن کمیشن  نےڈاکٹر حسن عسکری کی تعیناتی کو آئین کی روح کے عین مطابق کیا مگر اس پر اعتراض بے وجہ ، بے مقصد اور بے معنی ہے۔

دائیں بائیں افراد کا تذکرہ کرتا چلوں تو قارئین کی معلومات میں اضافہ ہو گا کیوں کہ ایک طرف تو رانا ثناءاللہ کھڑے تھے جن کی قابلیت ناصرف ماڈل ٹاون میں شہید ہونے والے 14 افراد ہیں بلکہ یہی رانا ثناءاللہ جب پاکستان پیپلز پارٹی سے نکالے گئے تو انہوں نے نواز شریف کے پاؤں پکڑ کر نا صرف مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی بلکہ نواز شریف کو مشورہ دیا کہ علماء سے فتوہ لو کہ عورت کی حکمرانی اسلام سے خارج ہے اور اسکے ساتھ ساتھ مختلف عریاں تصاویر پر محترمہ نصرت بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کے چہرے لگا کر لاکھوں کی تعداد میں یہ اشتہارات ناصرف دیواروں پر چسپاں کیے بلکہ جہاز اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں پر ان اشتہارات کی بارش کر دی تاکہ بینظیر اور نصرت بھٹو سے عوام نفرت کرے مگر اسکا الٹ ہوا اور بینظیر بھٹو بھاری اکثریت سے انتخابات میں کامیاب ہوئیں ۔

دوسرے فرد کا نام خرم دستگیر ہے ، انکے خاندان کا سیاست میں آنا بھی ایک شرمناک حادثہ ہے ، انکے والد محترم جناب  غلام دستگیر نے 60 کی دہائی میں ایوب خاں کی حمایت کرتے ہوئے مادرِ ملت فاطمہ جناح کی توہین کرنے کا ایک منفرد طریقہ نکالا کہ انہو ں نے ایک کتیا لی جس کے گلے میں سفید ڈوپٹہ ڈالا اور دوسرے ہاتھ میں محترمہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین لے کے تمام گجرانوالا شہر میں گھومے اور کتیا کو تنگ کرنے کیلئے اپنے ساتھ 2 ڈھول والے بھی رکھے اور کتیا کو قائداعظم کی ہمشیرہ کا نام سے پکارتے رہے جس سے خوش ہو کر محمد ایوب خان نے انکو نوٹوں میں تول کے اپنے انتخابی نشان گلاب کے پھولوں کا قالین بچھایا اور غلام دستگیر کو دولت اور جاگیر سے نوازا۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی اور ایوب خان نے غلام دستگیر کو اسی قسم کے جلوس نکالنے کیلئے لاہور، کراچی ، ملتان، فیصل آباد اور راولپنڈی میں بھیجا اور اسطرح غلام دستگیر کا سیاست میں عمل دخل شروع ہوا اور نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں منسٹری حاصل کی اور اب غلام دستگیر کا بیٹا خرم دستگیر نواز شریف کے ساتھ سیاست میں موجود پے۔

مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو تو سیاسی ہتھکنڈوں اور حکومتی مشینری کے ذریعے شکستِ فاش دی بلکہ آج تک محترمہ فاطمہ جناح کے انتقال کی وجہ انکی غیرطبعی موت ہے کیونکہ غسل دلانے والوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے گلے اور جسم پر تشدد اور زخموں کے نشان تھے۔

کیا اسی کو سیاست کہتے ہیں ؟ نوازشریف جسے ضیاءالحق نے پہلی دفعہ متعارف کروایا اور اس نے آئی جے آئی بنا کر بینظیر بھٹو کی مخالفت کی بعد میں اصغر خان مرحوم کی سیاسی جماعت تحریکِ استقلال جوائن کی اور اسکے بعد محمد خان جنیجو لیگ کا حصہ بنے اور ایک سازش کے تحت  اسکی حکومت ختم کی اور اسکی پاکستان مسلم لیگ پر قبضہ کر کے اسے پاکستان مسلم لیگ ن کا رنگ دے دیا۔ اور پھر بھی میاں محمد نواز شریف پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟

میرے نزدیک مسلم لیگ ن نہیں چاہتی کہ پاکستان میں انتخابات ہوں  بلکہ وہ عوام کو سڑکوں پر لانا چاہتی ہے تاکہ کسی نا کسی ذریعہ سے نواز شریف سزا سے بچ جائے اور مریم نواز کو مسلم لیگ ن کی بھاگ دوڑ تھما دی جائے اور یہی وجہ ہے کہ اپنے نمائندوں کو ٹکٹوں کی تقسیم کرنے میں دیر کی جارہی ہے اور انتظار کیا جا رہا ہے کہ ریحام خان کی کتاب 7 زبانوں میں ترجمے کے ساتھ اشاعت کے مراحل مکمل کرے، جس کیلئے مسلم لیگ ن کے قائدین نے ترکی کے ایک مشہور پبلشر سے ریحام خان کا معاہدہ کرانے کا بیرہ اٹھا لیا ہے۔

فحاشت اور سیاست کو اکٹھے کرنا مسلم لیگ کا شیوہ رہا ہے جس کی مثال بیگم نصرت اور شہید بینظیر بھٹو کی ماضی میں کردارکشی منہ بولتا ثبوت ہے مگر ایک مشہور کہاوت ہے کہ جو لوگ شیشے کے گھروں میں رہتے ہوں وہ دوسروں کے گھروں پر پتھر مت مارہں ورنہ انجام خون ریزی کے سوا کچھ نہ ہو گا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here