ماں باپ کی وفات کے 4 سال بعد بچے کی پیدائش

4 years after the death of parents a Baby's birth
4 years after the death of parents a Baby's birth

:بیجنگ

چین میں ایک خاتون نے ایسے بچے کو جنم دیا ہے جس کے حقیقی والدین 4 سال قبل ایک کار حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین میں ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی ہے جس کے والدین 4 برس قبل کارحادثے میں ہلاک گئے تھے۔ چین کی سرکاری خبر ایجنسی نے اس بارے میں بتایا ہے کہ بچے کے والدین نے ٹیسٹ ٹیوب بے بی (آئی وی ایف) کی غرض سے اپنے چار عدد بارور بیضے (ایمبریوز) نانجنگ اسپتال کے تولیدی کلینک میں منفی 196 ڈگری سینٹی گریڈ پر مائع نائٹروجن سے بھرے ٹینک میں محفوظ کروائے تھے لیکن آئی وی ایف کی کارروائی سے صرف پانچ دن پہلے ہی ان دونوں کا ایک ٹریفک حادثے میں انتقال ہوگیا۔

ہلاک ہونے والے جوڑے کے والدین نے اسپتال انتظامیہ سے اپنے بچوں کے محفوظ شدہ ایمبریوز کا تقاضا کیا تو اسپتال انتظامیہ نے انکار کردیا جس پر انہوں قانونی چارہ جوئی کی۔ تین سال جاری رہنے والے اس مقدمے میں بالآخر انہیں کامیابی حاصل ہوگئی اور یوں 2017 میں انہیں ایمبریوز استعمال کرنے کی اجازت مل گئی۔ تاہم نانجنگ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے شرط رکھی گئی کہ ایمبریوز صرف اسی صورت میں نکالے جاسکتے ہیں جب کوئی دوسرا اسپتال انہیں محفوظ رکھنے کےلیے تیار ہو، کیوں کہ چین میں متبادل ماں (سروگیٹ مدر) کے ذریعے بچے کی پیدائش غیرقانونی ہے۔ 

مرنے والے جوڑے کے والدین نے متبادل مائیں فراہم کرنے والی ایک غیرملکی ایجنسی سے رابطہ کیا جس نے انہیں تھائی لینڈ کے پڑوسی ملک لاؤس بھیج دیا جہاں متبادل ماؤں کے ذریعے بچوں کی پیدائش کو قانونی درجہ حاصل ہے۔ وہاں ایک خاتون کو معاوضے پر متبادل ماں کےلیے چنا گیا اور اس میں بارور بیضہ (ایمبریو) منتقل کرکے اسے حمل ٹھہرا دیا گیا۔

البتہ، چین میں بچوں کی پیدائش سے متعلق قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کےلیے اس خاتون کو زچگی سے چند روز پہلے ہی چین پہنچا دیا گیا جہاں دسمبر 2017 میں اس نے ایک بچے کو جنم دیا جو ایک لڑکا ہے۔ بچے کے نانا نانی/ دادا دادی نے اسے ’’تیان تیان‘‘ (پیارا) کا نام دیا ہے جبکہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے تصدیق کے بعد اس بچے کو قانونی طور پر ان کی تحویل میں بھی دے دیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے تیان تیان کی زندگی کے پہلے 100 دن مکمل ہونے پر اس کے نانا نانی/ دادا دادی نے پورے میڈیا کو اس واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here