مردان: 3 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کیا گیا، ضلعی ناظم کا دعویٰ

3 year girl killed and raped in Mardan, Claims District Nazim
3 year girl killed and raped in Mardan, Claims District Nazim

:مردان

صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر مردان کے ضلعی ناظم کا دعویٰ ہے کہ 2 روز قبل قتل کرکے کھیتوں میں پھینکی گئی 3 سالہ بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔

یاد رہے کہ مردان کے گاؤں گوجر گڑھی کے علاقے جندر پار سے اتوار کو لاپتہ ہونے والی ایک 3 سالہ بچی کی لاش رواں ہفتے 15 جنوری کو کھیتوں سے برآمد ہوئی تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ بچی کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں تھا تاہم گلے پر نشان تھے، جس سے اس شبہ کا اظہار کیا گیا کہ بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

دوسری جانب ضلع ناظم مردان حمایت اللہ مایار کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے خود پوسٹ مارٹم رپورٹ دیکھی ہے جس کے مطابق بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کیا گیا ہے، اسی لیے رپورٹ چھپائی جارہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘بچی کا تعلق غریب خاندان سے ہے، جس کے والد بیرون ملک مزدوری کرتے ہیں، ہم اسے انصاف دلا کر رہیں گے’۔

تاہم ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) مردان میاں سعید کا موقف ہے کہ بچی کی موت گلا گھونٹنے سے ہوئی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ریپ کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر امیر مقام نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ‘مردان کے واقعے نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی مثالی پولیس کی کارکردگی بےنقاب کردی ہے’۔

مردان میں معصوم بچی سے زیادتی اور قتل کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ماہ 4 جنوری کو گھر سے ٹیوشن کے لیے نکلنے والی 7 سالہ زینب کی لاش بھی 4 دن بعد قصور میں ایک کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی تھی، جسے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

12 جنوری کو بھی ضلع قصور کی تحصیل پتوکی میں کھیتوں سے چھٹی جماعت کے ایک طالب علم کی لاش ملی تھی۔

اس سے قبل فیصل آباد میں بھی کھیتوں سے نویں جماعت کے ایک طالب علم کی لاش برآمد ہوئی تھی، جسے مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

بچوں سے زیادتی کے ان واقعات کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج ہے اور معصوم بچوں کو اس درندگی سے بچانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here