کیا نواز شریف سیاسی لڑائی جیت رہے ہیں؟

NAWAZ SHARIF

قومی اسمبلی میں منگل کے روز عددوں کا کھیل تو مسلم لیگ ن جیت گئی لیکن حکمران جماعت کے بعض حلقوں میں آج بھی یہ سوال زیر بحث ہے کہ نواز شریف نے جو بڑی سیاسی لڑائی چھیڑ رکھی ہے اس میں آخری فتح کس کی ہو گی؟
نواز شریف کو پارٹی سربراہی کے لیے نا اہل قرار دینے کا قانونی مسودہ پیپلز پارٹی نے جب قومی اسمبلی میں جمع کروایا تو مسلم لیگ کے بعض مخالفین جن میں عمران خان سمیت بعض سیاسی رہنما اور کچھ سیاسی تجزیہ کار بھی شامل تھے، یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیے کہ مسلم لیگ ن کے درجنوں ارکان اسمبلی اجلاس میں آئیں گے ہی نہیں اور آ بھی گئے تو نواز شریف کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔
لیکن منگل کے روز جب قومی اسمبلی کے اہلکاروں نے ارکان کا حاضری لگائی تو پتہ چلا مسلم لیگ ن کے 188 میں سے 165 ارکان اسمبلی ہال میں موجود تھے۔ ان میں سے 159 نے نواز شریف کے حق میں ووٹ بھی دے دیا۔ان سات میں سے بعض ارکان اور وزرا اجلاس کی طوالت کی وجہ سے اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے اجلاس سے چلے گئے اور ووٹ میں حصہ نہ لے سکے۔
ن لیگ کی ایک رکن کلثوم نواز نے ابھی رکنیت کا حلف نہیں لیا باقی بچ گئے بائیس۔ ان میں سے بھی مسلم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بیشتر لوگوں نے اپنی غیر موجودگی کی اطیمنان بخش وضاحت پیش کی جسے قبول کر لیا گیا۔
لیکن مسلم لیگی ذرائع کے مطابق نصف درجن مسلم لیگی ارکان نے یا تو رابطہ نہیں کیا یا عدم حاضری کی “مشکوک” توجیح دی۔
نمبر گیم میں اس کامیابی پر مسلم لیگ ن اور اس کے قائد تو نہال ہوئے جاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو سیاست سے نکالنے یا “مائنس” کرنے کی سازش ناکام ہو گئیں۔ مریم نواز نے اسے جمہوریت کے لیے بڑا دن قرار دیا کیونکہ ان کے بقول دھمکیوں کے باوجود ان کے ارکان قومی اسمبلی نے اجلاس میں شرکت کی اور نواز شریف کو ووٹ دیا۔ ْ
حزب اختلاف بھی اس معرکے کے بعد کچھ زخم خوردہ ہے۔ شیخ رشید کہتے ہیں حکومت نے تجوریوں کے منہ کھولے اور ارکان اسمبلی اور اربوں کے ترقیاتی فنڈز دے کر ان کی اس اجلاس میں شرکت یقینی بنائی۔
نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد ان کی سیاسی اٹھان پر نظر رکھنے والے لوگ اس عددی اکثریت میں بہت سے اور معنی بھی دیکھ رہے ہیں۔
مثلاً پیپلز پارٹی کے رہنما اور زیرک سیاستدان اعتزاز احسن نے کہا کہ نواز شریف کی اس عددی اکثریت نے شکست پیپلز پارٹی کے پیش کردہ کاغذ کو دی لیکن اصل میں بساط شہباز شریف اور چوہدری نثار کی الٹی ہے۔ تفصیل بتاتے اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ منگل کے روز نواز شریف نے بتا دیا کہ انہوں نے مسلم لیگ ن کے وہ لوگ بھی اپنے ساتھ ملا لیے ہیں جو گزشتہ کئی ماہ سے چوہدری نثار اور شہباز شریف کا دم بھرتے تھے۔
اس عددی کامیابی اور اس کے ممکنہ دور رس اثرات کے باوجود مسلم لیگ ن کے بعض سینئر ارکان آج بھی تشویش کا شکار ہیں۔ نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے ایک مسلم لیگی رہنما کے مطابق نواز شریف نے رابطہ عوام مہم کا جو سلسلہ شروع کیا وہ اسے عام انتخابات تک لیجانا چاہتے ہیں تاکہ اس غصے کو ووٹ میں تبدیل کیا جا سکے۔
لیکن نواز شریف نے ان جلسوں میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلوں کو جس طرح سے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے اس کے پیش نظر مسلم لیگی رہنما بھی کچھ زیادہ پر یقین نہیں ہیں کہ نواز شریف اس مہم کو زیادہ طول دے پائیں گے۔
سپریم کورٹ کی طرف سے رجسٹرار کی مسترد کردہ درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنا اس خدشے کے حق میں آنے والی تازہ دلیل ہے۔ یہ درخواست رکن قومی اسمبلی، پاکستان پیپلز پارٹی، شیخ رشید احمد اور جمشید دستی کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نا اہل شخص پارٹی سربراہ بھی نہیں ہو سکتا۔
یعنی جو لڑائی نواز شریف قومی اسمبلی کے ایوان میں عددی برتری کی وجہ سے اپنے تیئں جیت چکے ہیں، وہ دراصل ابھی ختم نہیں ہوئی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here