وراثتی سیاست

AGHA WAQAR AHMED

کالمصفحہ اول
وراثتی سیاست کا مصالحتی فارمولا

حقوق اشاعتِ(copyright)صرف ہمارے پاس محفوظ ہیں۔اسےبغیراجازت چھاپنا،نقل کرنا،غیرقانونی ہے۔
سیسیلین مافیا میں گاڈ فادربظاہرایک شریف انسان نظرآتا تھا مگرحقیقت میں وہ مافیا کا سردار ہوتا تھا جو لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ مستقبل کی حکمرانی کا فیصلہ بھی کرتا تھا اوراس کے پاس غیرقانونی دھندوں کےاختیارات کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے تقررکا اختیاربھی ہوتا تھا۔
جرائم پیشہ ما فیا کے اس کردارکی اصطلاح سپریم کورٹ نے نواز شریف کے مقدمے کے فیصلے میں تحریرکی تو میرے جیسے قلم کارکوحیرت ہوئی اورافسوس بھی ہوا کہ کسی ملک کی اعلی عدلیہ کو کسی بھی انسان کے کردار کے بارے میں ایسے ریمارکس دینا مناسب نہیں ۔ مگرجوں جوں وقت گزرتا گیا توں توں حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہونے لگے اورچارماہ میں ہی احساس ہو گیا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کیس میں جو اصطلاح استعمال کی تھی وہ حقیقت کے عین مطابق ہے اور یہ اصطلاح نواز شریف کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تقریباََ تمام سیاسی قیادت پرلاگوہوتی ہے ما سوائے چند ایک کے ۔
یہ اصطلاح الطاف حسین اور در پردہ اس کے رابطہ میں ایم کیوایم کے تمام دھڑوں پر بھی لاگو ہوتی ہے کیونکہ جرائم پیشہ افراد نے ایسے دھوبی گھاٹ بنا رکھے ہیں جہاں سے گزرکرجرائم پیشہ افراد اور پاکستان کی سالمیت کے دشمن اپنے آپ کو حب الوطن کہنا شروع ہو گئے ہیں پس پردہ دونوں گروپ آج بھی لندن میں بیٹھے ہوئے ڈان سے رابطہ میں ہیں اور یہ وہی افراد ہیں جن پرکچھ عرصہ پہلے ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ بلدیہ کے علاقے میں 264 افراد کو زندہ جلانے کا لزام بھی ہے اور بادی النظرمیں اپنے آپ کو سیاست میں زندہ رکھنے کے لئے اپنی سیاسی تنظیم کا نام تبدیل کرکےعوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔
اب بات ذرا پاکستان پیپلزپارٹی کی ہوجائے۔ یہ پارٹی بھی ایک طرح کی وراثتی پارٹی بن چکی ہے ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد بینظیربھٹو اوراب آصف زرداری اوربلاول بھٹو زرداری اس جماعت پرمکمل اختیار رکھتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے جس کی وجہ اس پارٹی کے دورحکومت میں مالیاتی بے ضابطگیاں عروج پرتھیں جس کی وضاحت ڈاکٹرعاصم اورعزیربلوچ کے اقبالی بیانات ہیں ۔
جمعیت العلمائےالاسلام (ف) اورنیشنل عوامی پارٹی بھی مکمل طور پر وراثتی پارٹیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف اگرچہ وراثتی پارٹی نہیں مگراس پارٹی میں پاکستان بھرکے بدنام زمانہ سیاست دان جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ سیاسی تنظیم اپنے بانی عمران نیازی کے اختیارات سے باہرنکلتی نظرآ رہی ہے اوراحساس ہوتا ہے کہ اس پارٹی نے شروع شروع میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مایوس جیالوں کواپنی طرف راغب کیا مگراس پارٹی کی تمام ترتنظیم رئیس اوراشرافیہ کے ہاتھوں میں ہے اس لئے عوام الناس پاکستان تحریک انصاف سے مایوس ہو کر پارٹی چھوڑ چکے ہیں کیونکہ عمران نیازی پراسٹیبلشمنٹ کا کارندہ ہونے کا احساس ہوتا ہے ۔
جماعت اسلامی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس میں قیادت کا انتخاب وراثت کی بنیاد پرنہیں ہوتا ۔
جیسا کہ جماعت اسلامی میں امیرجماعت کا انتخاب نچلی سطح کی بنیاد پرکیا جاتا ہے۔ بانی جماعت اسلامی مولانا ابوالحسن مودودی کی اولاد میں سے کوئی بھی جماعت اسلامی میں کسی قسم کا کوئی عہدہ نہیں رکھتا اور ان کے بعد آنے والےامیرمولانا طفیل محمد ،قاضی حسین احمد، پروفیسرسید منوراورموجودہ امیرسینیٹرسراج الحق، یہ وہ بنیادی کارکن ہیں جنہوں نے سیاست کووراثت میں تبدیل نہیں ہونےدیا ۔ مگرافسوس پاکستانی عوام اسلامی نظریے پر ووٹ دینے کو تیارنہیں حالانکہ تقسیم ہند کا ایک ہی مقصد تھا کہ مسلمانوں کے لئے ایک الگ خطہ ہو جہاں ق وہ اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی زندگیاں بسرکرسکیں مگرافسوس کہ آج پاکستان میں سیاست اورالیکشن کے تمام مراحل ناچ گانے جھوٹ اوردھوکے پرمبنی ہیں اوریہی وجہ ہے کہ اپنے سیاسی مفادات کےحصول کے لئے اب یہ سیاست دان آئین کی شق نمبر62 اور63 کوختم کرنے کے درپے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ختم نبوتﷺ جیسے حساس مسلئے میں بھی سازش سے بازنہیں آتے ۔
مبینہ طور پرلندن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دو بڑے دھڑوں کے درمیان ایک مصالحتی فارمولا طے پاگیا ہے جس کی روسے مسلم لیگ (ن) کی وراثت اگلی کئی دہائیوں تک کے لئے طے کر دی گئی ہے جو کہ انتہائی افسوسناک فیصلہ ہے جس سے مسلم لیگی اراکین اورسیاسی کارکنوں کی خواہشات کے قتل کی بوآتی ہے ۔
بمسلم لیگ (ن ) کو ہی لیجیئے ایک طرف تو لاہوری ، احمدی اور قادیانیوں سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے انہیں مسلمانوں کے برابرگردانتے ہیں اور دوسری طرف عوام کو بیوقوف سمجھتے ہوئے اگلے ساٹھ سال تک حکومت کرنے کے لئے وراثتی تقسیم کر رہے ہیں جس کے مطابق مریم نواز، حمزہ شہباز مرکزمیں اورسلمان شہباز کے ساتھ مریم نواز کا داماد راحیل منیرپنجاب میں سیاست پر کنٹرول حاصل کریں گے ۔
نوازشریف اورشہباز شریف مسلم لیگ کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ اس جاگیر کی وراثت میں کوئی کارکن قیادت کی سطح پرآئے جس کی زندہ مثال چوہدری نثارکو سائڈ لائن کرنا ہے ۔
معاہدے کی روح سے نواز شریف کی سیاسی وراثت مریم نوازاور مریم نواز کے داماد راحیل منیر کے حصے میں آئی اور شہباز شریف کی سیاسی وراثت حمزہ شہباز کے ساتھ ساتھ سلمان شہباز کے حصے میں آئی ۔ سیاسی وراثت کی یہ تقسیم ایک شرمناک عمل ہے جس کے بعد سیاسی پارٹی میں آمریت کا پودا پروان چڑھتا ہے ۔
وراثتی سیاست یا وراثتی طاقت یا وراثتی شہنشاہیت کی سوچ پاکستان میں اسی طرح چلتی رہی تو کوئی بعید نہیں کہ جمہوری طرزحکومت کی بساط لپیٹ دی جائے ۔
Columnist1958@gmail.com

حصہ
گزشتہ مضمونشہیدوں کا لہو
اگلا مضمونبچہ جمہورا

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here