عظیم الشان مغلیہ سلطنت کا لمحۂ آغاز

یہ پانی پت کی پہلی لڑائی تھی اور اس کے دوران ہندوستان میں پہلی بار کسی جنگ میں بارود استعمال کیا گیا۔
50 ہزار سپاہیوں کے علاوہ ابراہیم لودھی کے پاس ایک ہزار جنگی ہاتھی بھی تھے لیکن سپاہیوں کی طرح انھوں نے بھی کبھی توپوں کے دھماکے نہیں سنے تھے، اس لیے پورس کے ہاتھیوں کی تاریخ دہراتے ہوئے وہ جنگ میں حصہ لینے کی بجائے دم دبا کر یوں بھاگ کھڑے ہوئے کہ الٹا لودھی کی صفیں تتر بتر کر دیں۔
بابر کے 12 ہزار تربیت یافتہ گھڑسوار اسی لمحے کا انتظار کر رہے تھے، انھوں نے برق رفتاری سے پیش قدمی کرتے ہوئے لودھی کی فوج کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور کچھ ہی دیر بعد بابر کی فتح مکمل ہو گئی۔
مورخ پال کے ڈیوس نے اپنی کتاب ’100 فیصلہ کن جنگیں‘ میں اس جنگ کو تاریخ کی سب سے فیصلہ کن جنگوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
یہ عظیم الشان مغلیہ سلطنت کا لمحۂ آغاز تھا۔
عثمانی جنگی حربے کے علاوہ اس فتح میں دو ترک توپچیوں استاد علی اور مصطفیٰ نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ انھیں ایک اور عظیم سلطنت یعنی سلطنتِ عثمانیہ کے پہلے خلیفہ سلیم اول نے بابر کو بطور تحفہ عنایت کیا تھا۔
دنیا کی عظیم ترین سلطنتوں میں سے ایک سلطنتِ عثمانیہ کی داغ بیل عثمان غازی نے 13ویں صدی میں ڈالی تھی۔
اس زمانے میں بازنطینی سلطنت آخری سانسیں لے رہی تھی اور اناطولیہ متعدد چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور راجواڑوں میں بٹا ہوا تھا۔ 1254 میں پیدا ہونے والے عثمان غازی ان میں سے ایک چھوٹی سی ریاست سوغوت کے ترک سردار تھے۔ تاہم انھوں نے ایک دن ایک ایسا خواب دیکھا جس نے تاریخ کا رخ موڑ کر رکھ دیا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here